اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پيريس ميں داعش کے خلاف اتحاد کے قيام اور عراق کي سيکورٹي کے عنوان سے جاري کانفرنس کے موقع پرفرانس کے صدر اولينڈ اورعراق کے صدر فواد معصوم نے اپني مشترکہ پريس کانفرنس ميں کہا کہ کانفرنس ميں تقريبا تيس ملکوں کے حکام شريک ہيں -
فرانس کے صدر اولينڈ نے دعوي کيا کہ اس کانفرنس کا مقصد دہشت گرد گروہ داعش کے مقابلے ميں عراق کي سياسي حمايت کرنا ہے -
فرانس کا دارالحکومت پيريس ايسے ملکوں کا ميزبان ہے جو اب سے پہلے تک داعش کي سرپرستي کررہے تھے اور اب اس کے اقدامات سے وحشت زدہ ہوکر اس گروہ کے خلاف اتحاد بنانے کي کوشش کررہے ہيں -
پيريس کانفرنس سے پہلے جدہ ميں بھي خليج فارس کےعرب ملکوں ، امريکا، مصر، لبنان اردن اورعراق کي شرکت سے جمعرات گيارہ ستمبر کو بھي اسي قسم کي ايک کانفرنس ہوچکي ہے -
جدہ کانفرنس کا مقصد بھي داعش کا مقابلہ کرنے کے طريقوں کا جائزہ لينا بتايا گيا تھا - جدہ کانفرنس کے اختتام پر ايک بيان بھي جاري کيا گيا تھا جس ميں کہا گيا تھا کہ داعش کے خلاف اتحاد ميں شريک ممالک اس گروہ کے خلاف جنگ ميں اپنا بھرپور کردار ادا کريں گے -
دہشت گرد گروہ داعش اس وقت نہ صرف يہ کہ علاقے کے لئے ملکوں کے خطرہ ہے بلکہ اب پوري دنيا ميں اس کا خطرہ محسوس کيا جانے لگاہے -
داعش گروہ کو کہ جس ميں اس وقت ايشيا اور يورپ کے ہزاروں دہشت گرد شامل ہيں علاقے کي بعض عرب حکومتوں اور اسي طرح امريکا و يورپي ملکوں کي حمايت سے بنايا گيا اور اس نے شام اور عراق ميں بدترين انسانيت سوز جرائم کا ارتکاب کيا اور يہ سلسلہ بدستورجاري ہے-
اس درميان اسلامي جمہوريہ ايران روز اول سے عرب اور مغربي ملکوں کو خبردار کرتارہا کہ انہوں نے شام اور عراق کے عوام کے لئے جو آگ بھڑکائي ہے وہ شام اور عراق تک ہي محدود نہيں رہے گي بلکہ داعش جيسے دہشت گرد گروہ کي حمايت کرنےوالے ملکوں کو بھي يہ آگ اپني لپيٹ ميں لے لے گي -
جدہ اورپيريس جيسي نمائشي کانفرنسوں ميں جو بات سب سے زيادہ نماياں اور دلچسپ ہے وہ ان کانفرنسوں ميں ان ملکوں کي شرکت ہے جو داعش کے سب سے بڑے حامي ہے ہيں اور جنھوں نے اس گروہ کي ہر طرح سے مالي اور اسلحہ جاتي مدد کي ہے -
يہ ممالک اس قسم کي کانفرنسوں کے مہمان بھي ہيں اور ميزبان بھي بنے ہوئے ہيں اور ان کا نعرہ ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ کے لئے اتحاد بنارہے ہيں- يہ وہ موضوع ہے کہ جس نے داعش کے خلاف اتحاد بنانے والے ملکوں کے دوہرے معيارات اور ان کي پاليسيوں ميں ايک سو اسي ّ درجے کي تبديلي ظاہر کردي ہے -
دوسري جانب اس قسم کي کانفرنسوں کي حقيقت پر اس وقت سوال لگ جاتا ہے جب ان ميں پيش کئے گئے طريقہ کار جائزہ ليا جاتا ہے - ايک ايسے وقت جب عراق کے صدر فواد معصوم يہ کہتے ہيں کہ دہشت گردي کے خلاف کسي بھي جنگ ميں ايران کي شراکت ضروري ہے توامريکا جيسے ممالک اس کي مخالفت کرتے ہيں -
فواد معصوم نے يہ بھي کہا کہ ضرورت اس بات کي ہےکہ عراق سے دہشت گردوں کا صفايا کرنے کے لئے عراقي حکومت کي سياسي ، اسلحہ جاتي اور مالي مدد کي جائے مگر کانفرنس کرنےوالےممالک عراقي صدر کي اس درخواست کو نظرانداز کرکے خودہي عراق ميں فوج بھيجنے اور عراق ميں ہوائي حملے کرنے کي باتيں کرتے ہيں - يہ وہ غلطي ہے جس کا ارتکاب وہ افغانستان اور عراق ميں پہلے بھي کرچکےہيں-
بہرحال داعش کي عمر شايد اب ختم ہونے کے قريب پہنچ چکي ہے ليکن مغربي ممالک جب تک دہشت گردگروہوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہيں گے اس وقت تک القاعدہ اور داعش جيسے ديگردہشت گرد گروہ دوبارہ وجود ميں نہ آئيں اس کي ضمانت کوئي بھي نہيں دے سکتا -
.......
/169